سلطان صلاح الدین ایوبیؒ---------------- قسط 11 - History

Advertisement

test banner

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Thursday, July 23, 2020

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ---------------- قسط 11





 دور کوشکوں کے دونوں سروں پر نیزوں کے اژد ھےمشعلوں کی زبان نکالے کھڑے تھے اور  ان کی  دھندلی روشنی میں مسلح عورتیں   ستونوں کے ساتھ ایسے کھڑیں تھیں جیسے پرچھیاں ہوں۔ اندر آکر اس نے خود بکتر اور دستانوں کے کانٹے درست کرنے لگا۔ نیزہ اور ڈھال سنبھال کر نیچےآگیا۔ وہ پہرہ داروں کی سوالیہ نگاہوں سے بے نیاز اصطبل پہنچ گیا اور  اپنے گھوڑے پر سامان رکھ  کر سوار ہو گیا۔ محا فظوں نے جیسے ہی ملکہ عالم کے محافظ نائٹ کی سواری دیکھی  پھاٹک کھول دیا۔ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ وہ حمص کے قلعہ کی فصیل پر چڑھ رہا تھا۔
جنگ کے لئے تیار  لشکر یروشلم کے بادشاہ اور کرک کے ریجینا لڈ کی کمک کا انتظار کر رہاتھا۔ تمام دن شہنشاہ کو نریڈ-لوئی ہفتم- ملکہ ایلنیور - نواب -شہزادے- نائٹ - پادری اور فوجی سردار  دمشق پر حملے کا منصوبہ بنانے میں مصروف رہے  اور وہ سارا دن ملکہ کے کمرہ خاص کی محراب میں ہتھیار پہنے کھڑا رہا۔ وہ ساری رات نہیں سویا تاکہ ملکہ کے چہرے کی ایک جھلک دیکھ سکے۔ دوسرے دن کے غروب ہوتے ہوتے افرنجیوں کے ڈھول گرجنے شروع ہو گئے اور قرنا چیخنے لگے۔ پہلے وہ بھی یہی سمجھا کہ شاہ یروشلم کی پیشوائی ہو رہی ہے۔ پھر پتہ چلا کہ دمشق کا شامی لشکر حرکت کر رہا ہےاور اس میں موجود  پ50 ہزار سوار حمص کو تین اطراف سے گھیرے ہوئے بڑھ رہے ہیں جن کے پیچھے بغدادی دیابے اور صلیبیوں سے چھینی ہوئی  منجنیقیں  بھی ہیں

وہ فوجیں جو آرام سے آراستہ تھیں اب گھوڑوں پر سوار ہو چکی تھیں ۔  فرانسیسی نوابوں اور نائٹوں کے جھرمٹ میں آگے آگے لوئی ہفتم اور پیچھے فرانسیسی فوج تھی۔ اس کے اور کونریڈ کے لشکر کے درمیان صلیب مقدس تھی جسے ستاروں کی طرح حسین کنواریاں اور  پر جلال پادری اٹھائے ہوئے تھے جو  بائبل کی آیتیں پڑھتے ہوئےآنسو بہا رہے تھے ۔ ان کے پیچھےتیر اندازی میں مشہور طلایہ کے سوار تھے جن کی پیٹھ پر تیروں کے گٹھر تھے ۔ وہ آج بھی ملکہ کے پہلو اور مسلح عورتوں کے جلوس میں گھوڑا کدا رہا تھا۔ انہوں نے  دریائے اردن پارکیا اور اس کے مغربی کنارے پر پھیل کر مور چے بنانے میں مصروف ہو گئے ۔ یروشلم  صور عکہ اور عسقلان سے آئے ہوئے خیمے کھڑے کئے گئے کیونکہ محاصرہ دمشق  میں شیر کوہ نے صلیبیوں کی ساری قیام گاہ لوٹ لی تھی ۔ ملکہ نے لوئی سے دوبار گاہِ کی پشت کی چھولداری سے عنایت کی۔ ہر طرف سے مطمئن ہو کر اس نے خنجر سے نمدے کی دیوار چاک کی اور نیچے پائے اور کھردرے بستر  کے پلنگ کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ چھوٹے نیزے کے برابر شمع کی تیز روشنی میں ملکہ اسے خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ وہ گھٹنوں کے بل  جھکا اور دونوں ہاتھوں میں ملکہ کا ہاتھ تھام لیا۔ ملائم،سفید ، خوشبودار ہاتھ  کا لمس اس کی روح میں سرایت کر گیا  ۔ پھرا س نے بہشت کا وہ زندہ گلاب اپنی آنکھوں میں رکھ لیا۔
ہمارے لئے کیا حکم ہے ۔ ملکہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
حکم یا مشورہ ۔ملکہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ لیا۔

ہمارا مشورہ ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ دمشق کی ناکامی میں کونریڈ کو تمہارا ہاتھ نظر آیا ہے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری موت ہمیں کو نریڈ کے خلاف تلوار اٹھانے پر مجبور کر دے اور آپس میں لڑتے ہوئے صلیبی لشکر غلام ہو کر دمشق کے بازاروں میں بک جائیں
بس یا اور کچھ ؟ 

ہاں ہماری دعا ہے کہ تم صحیح سلامت دمشق پہنچو ۔ کسی آہو چشم نمازی بنت عمر سے شادی کر لو۔ لڑکے پیدا کر و اور بوڑھے ہو جاؤ اور قصر دمشق کے خنک دلانوں میں مودب بیٹھے ہوئے پوتوں، نواسوں سے جب دوسری صلیبی لڑائی میں اپنے کارنامے بیان کرو تو تمہاری آواز رندھ جائےتمہاری آنکھیں بھیگ جائیں اور تم طلائی کے کام سے مزین آستینوں سے آنسو پونچھ کر اٹھ جاؤ اور شہتوت کی چھاؤں اور گلاب کی جھاڑیوں کی آڑ میں بچھی ہوئی سنگِ سماق کی کرسی پر بیٹھ کر روتے رہو اور جب تمہارے بے گناہ خادم مارگیلی اور نبیذ لے کر حاضر ہو ں تو تم ان پر برس پڑو اور تمہاری تنہائی کی حفاظت پر زریں کمر خواجہ سراہلالی تلواریں علم کر کے کھڑے ہو جائیں۔

پھر کوئی آواز نہ آئی ۔  دیر تک کسی کو زبان ہلانے کا یارانہ رہا۔

یوسف۔اگر تمہارے ہاتھ تھک جائیں اور تلوار پر زنگ چڑھ جائے تو ہمارے پاس چلے آنا۔ مسیح کی قسم ہمارے قصر کے دروازے تمہیں خوش آمدید کہنے کیلئے عمر بھر کھلے رہیں گے۔

ہم صبح سوار ہو کر نکلیں گے اردن کے کسی سنسان گھاٹ پر کوئی بہانہ کر کے تم کو اترنے کا حکم دیں گے۔ وہی گھڑی ہماری جدائی کی گھڑی ہو گی۔

باقی تمام رات ایک دوسرے کو دیکھنے میں کٹ گئی ۔
 سامنے بہتے ہوئے دریائے اردن  کے مشرقی کنارے پر جنگلی درختوں کا گنجان خاموش جنگل کھڑا تھا۔

ملکہ کی ذات خاص کار سالہ علموں اور بیرقوں کی چھاؤں میں پیچھے کھڑا تھا جن کے ہتھیار اور بکتر دھوپ میں جگمگارہے تھے ۔ ان کے آگے خود ملکہ کھڑی تھی جس کے خود کی کلغی کے ہیرے دھوپ میں تڑپ رہے تھےصلیب دمک رہی تھی اور سرخ آنکھیں سفید گھوڑے کی شعلہ رنگ کلغی پر جمی ہوئی تھیں۔ ان کے بائیں دستانہ پوش ہاتھ میں گھوڑے کی سنہری زنجیر تھی۔ داہنے ننگے ہاتھوں میں سونے کا عصا تھا جس کے سر پر یا قوت کا تاج تھا اور بدن پر جواہرات جڑے تھے ۔ گھوڑا دم کی چنور کر کے گردن جھکا تا تو ملکہ کی تلوار کا زریں نیام گھوڑے کی آہنی پاکھر سے ٹکرا کر بج اٹھتا

جون دی نائٹ 

ملکہ عالم ۔

دریا اتر کر جاؤ اور دشمن کی خبر لے کر آؤ

وہ اپنے بکتر اور تلوار کو کھڑا کھڑاتا ہوا  نیچے اترا اور مشرق کے بادشاہوں کی طرح باوقار قدم رکھتا ملکہ کی سیدھی زریں رکاب کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ سرخ بوجھل  بغیر آنسو ؤں کے روتی آنکھوں سے ملکہ کو دیکھا ۔ نیام سے تلوار نکالی اس پر بوسہ دیا اور نیام کر لیا۔ملکہ نے جو اب میں جوگھوڑے کی کلغی دیکھ رہی تھیں اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ اس نے ننگے تھر تھراتے ہاتھ کی پشت پر ہونٹوں کے انگارے رکھ دیئے اور بے ادبی کی حد تک تاخیر کرتا رہا۔ پھر الٹے قدموں چل کر اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ نصف دستہ صفوں سے نکل کر اس کے گھوڑے کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ ملکہ نے اس کی طرف پلٹ کر دیکھا اور آخری بارسماعت کو لالہ زار کر دیا ۔

مسلمانوں کے ایک لشکر کیلئے جون دی نائٹ کافی ہے۔ 

سوار اپنی جگہ قائم رہے۔ وہ گھوڑے کو ترچھا چلاتا ہوا خود کے چھجے کے سائے سے ملکہ کو دیکھتا ہوا اردن میں اتر گیا ۔ کنارے پر پہنچ کر گھوڑا پھیر دیا اور اسے الٹے قدموں دھکیلتا ہوا ملکہ کو اسی جگہ اسی طرح دیکھتا ہوا درختوں کے ہجوم میں کھو گیا۔

اس نے ابلق کی لگام ڈھیلی کر دی۔ جنگلوں اور گھاٹیوں کے چور راستوں پر وہ چکاروں کی طرح طرارے بھرنے لگا۔ جاری ہے 

قسط نمبر 11 کیلئے یہاں کلک کریں
قسط نمبر 10 کیلئے یہاں کلک کریں


No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages