سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. ( تیسری قسط ) - History

Advertisement

test banner

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Monday, May 18, 2020

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. ( تیسری قسط )



آدھی رات ادھر تھی اور آدھی رات ادھر۔ جس وقت وہ شہر میں داخل ہوا تو کوئی مکان ایسا نہ تھا جس کی چھت پر آدمیوں کی ٹولیاں نہ ٹہل رہی ہوں ۔ سڑکیں بیدار تھیں اور تیز قدم راہ گیروں کے بوجھ سے کراہ رہی تھیں۔ اس کے اپنے دروازوں پر کوتل گھوڑوں اور سواروں کا ہجوم تھا۔ سارے محل میں انسان سہمی ہوئی خاموشی سے کچلے ہوئے سایوں کی طرح چل پھر رہے تھے۔ بیٹھے ہوئے تھے اور کھڑے ہوئے اونگھ رہے تھے۔ والد بزرگوار ایوب دمشق کے وزیراعظم معین الدین کی قیام گاہ پر مشورے کیلئے گئے ہوئے تھے۔ وہ اپنے بھائی طغرل کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا جس نے اس کی طرح نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا بلکہ اسی طرح اپنے خیالوں میں کھویا ہوا بیٹھا رہا۔ وہ اس خاموشی سے جھنجھلا کر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ والد بزرگوار کی آوازگونجنے لگی ۔ وہ لپک کر ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ جو اپنے دالان میں کھڑے شمعوں کی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔ غلام ان کا زرکار بکتر اتار رہے تھے۔ چہرے پر زردی کھنڈی ہوئی تھی اور آواز پر غم کی پر چھائیاں تیر رہی تھیں۔ اس کا چھوٹا بھائی تو ران شاہ ان کی گود میں پہنچ چکا تھا اور دوسرے بھائی بھی سمٹ آئے تھے۔ اب اس کی ہمت بندھی ۔ اس نے فکر مند لہجے میں پوچھا ۔
*کیا افرنجی لشکر بہت طاقتور ہے*
ہوں"افواہ ہے کہ دو لاکھ سوار ہیں ان کے پاس  صرف نائٹوں کی تعداد چار ہزار ہےلیکن جب تک تصدیق نہ ہو جائے کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا ۔ 
اس کے بعد طغرل اور عادل دیر تک باتیں کرتے رہے لیکن انہوں نے نہ زبان کھولی اور نہ کوئی توجہ دی اور جب یہ لوگ اٹھے تو وہ لیٹنے کیلئے تشریف لے گئے۔
وہ اٹھ کر تیسری منزل پر چلاگیا۔ انتہائی تھکن کے باوجود اسے نیند نہیں آئی۔ وہ چکنی ٹھنڈی چٹائی پر لیٹا کر وٹیں بدلت رہا تھااورخدا سے دعا مانگتا رہا۔ بڑی مشکل سے صبح ہوئی۔ اس نے ہتھیار لگا کر اپنے مشکی گھوڑے کا منہ چوما اور سوار ہوکر قحطان کے گھر پہنچا  گیا۔
دمشق کے گرجا کے سب سے بڑے پادری کا بیٹا اپنے دوست اور ولی عہد کو دیکھ کر بچھ گیا اورہاتھ لے کر اپنے کمرے میں پہنچا اور بڑے خلوص سے رسمی باتیں کرنے لگا۔
میرا خیال ہے قحطان کہ دمشق کی حفاظت کے فرض میں ہم دونوں برابر کے شریک ہیں۔ اگر افرنجیوں کے بجائے عباسی یا فاطمی چڑھ آتے تو بھی دمشق کو بچانا ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا۔
میں ۔اتفاق کرتا ہوں لیکن اتنے بڑے لشکر کے سامنے دمشق کتنے دن ٹھہر سکتا ہے۔ صرف شہنشاہ فرانس کی فوج ایک لاکھ ہے۔ 

تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ 

افواہ ہے۔
لیکن ہم معلوم بھی تو کر سکتے ہیں۔
ہم؟
ہاں ۔ہم ۔میں اکیلا نہیں۔
کیسے؟
تم پادری کے بیٹے ہو مجھے نوجوان پادری کے بھیس میں لے چلو ۔ افرنجیوں کی لشکر گاہ میں پہنچادو۔ باقی سب کچھ میں کر لوں گا۔
تم کیا سوچنے لگے؟
اوں۔میں یہ سوچنے لگا کہ اگر بدنصیبی نے تمہیں پہچان لیا اور تم جاسوسی کے جرم میں پکڑ ے گئے تو گورنر دمشق کے ولی عہد کی موت کے انتقال میں مجھ پر اور میرے ہم مذہبوں پر کیا کچھ گزر سکتی ہے۔
دیکھو اگر دشمن کی قوت کا اندازہ نہ ہو سکا تو ہماری خائف اور محصور فوجیں دمشق ہار جائیں گی اور تم سزا سے محفوظ رہو گے اور اگر میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تو دمشق جیت جائے گا اور تم جزا کے حق دار ہو گئے یعنی تمہاری گردن دونوں طرح محفوظ ہے۔جہاں تک میرا سوال ہے، تو میں مرنے پر تیارہوں۔
تو پھر ٹھیک ہے ۔
جبلِ لبنان کی وادی میں جہاں سے دریائے زرافشاں سات شاخوں میں تقسیم ہو کر دمشق کے مضافات کو زرخیز کرتا ہوا بہتا ہے ، عیسائی لشکر میلوں میں پھیلا ہوا پڑا تھا۔ زرا فشاں کی سات شاخیں سات خندقوں کی طرح لشکر گاہ کے گرد حصار کئے بہہ رہی تھیں۔ شام کے سایے میں دیودار کے اونچے اونچے درختوں کے شامیانے کے نیچے دونوں اپنے گھوڑوں سے اترپڑے۔ گٹھریاں کھول کر سیاہ صوف کی لمبی لمبی عبائیں پہنیں ، لکڑی کی صلیبیں گلے میں ڈالیں ، ایش کی لمبی لمبی چھڑیاں ہاتھوں میں سنبھالیں اور ملازموں کو ہدایتیں دے کر جنگلی کانٹے دار جھاڑیوں میں گزرتی ہوئی دھندلی دھندلی پگڈنڈیوں پر چل پڑے۔ یہاں کا ایک ایک ذرہ اس کا آشنا تھا۔ اونچے نیچے غیر معروف اور تاریک راستوں پر جنگلی جانوروں کی طرح اچھلتے پھاندتے وہ اس جگہ تک پہنچ گئے جہاں سبزے کے میدانوں ، خربوزے کے کھیتوں کے علاوہ سیب ، شفتالو، نارنج ، شہتوت اور ترنج کے لاتعداد باغات تھے اور جہاں عیسائی لشکر کے گھوڑے ، ہنہنار ہے تھے۔ سپاہی جو شیلے گیت گار ہے تھے، جنگی باجے بجا رہے تھے، آسمان میں دھوئیں کی ان گنت لکیریں منڈلا رہی تھیں اور خیموں کے جنگل میں آوازوں کے وحشی پرندے اڑ رہے تھے۔ وہ قحطان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ سامنے دیودار کے درختوں کی دیوار کے نیچے جنگلی گلابوں کی خاردار حد بندی تھی۔ اسی کے نیچے زرا فشاں کی دوسری شاخ کا اتار تھا۔ وہ اپنے موٹے سوتی جامے سے کانٹے چھڑاتا کگار پر آگیا ۔ قحطان نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا 
سامنے پانی میں منہ ڈالے ایک سنہرے رنگ کا اونچا گھوڑا کھڑا تھا جس کی مخملیں کاٹھی میں چاندی کے رکاب جھول رہے تھے اور سر پر شعلہ رنگ کلغی ٹرپ رہی تھی۔ اس کے پیچھے پانی کے کنارے کنارے اتار میں بہت سے اونچے ، بھاری اور سجے سجائے گھوڑے چر رہے تھے یا پانی پی رہے تھے یا کھڑے تھے۔ لمبی چوڑی گوری چٹی عورتیں کمر تک چست گلودار قبائیں پہنے تھیں جس کے نچلے ڈھیلے حصے پر چوڑی چوڑی پلیٹیں تھیں اور جو پاؤں کے پنچوں تک جھولی ہوئی تھیں۔ وہ ان زمین بوس دامنوں کو چٹکیوں سے پکڑے ہوئے ادھر اُدھر چل پھر رہی تھیں اور کچھ پتھروں پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس کے بائیں طرف دور حد نگاہ تک فرانسیسی فوجوں کے دستے زرہ بکتر پہنے، خود لگائےسیدھی چوڑی بھاری ننگی تلواریں لئے گھوڑوں کی باگیں تھامے کھڑے تھے۔
جب اسے ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ قحطان سینے پر صلیب بنا کر دستہ بستہ کھڑا ہے اور ایک چھے فٹ کی نارمن عورت مردانہ زیور پہنے ہلکی سیدھی تلوار کی نوک اس کے سینے پر رکھے گھور رہی ہے۔ اس نے بھی جلدی سے صلیب بنائی اور قحطان کے پیچھے پیچھے اس عورت کی تلوار کی زد میں چلنے لگا۔ گلاب کی جھاڑیوں کے کنج میں ایک بھوری تکونی چٹان پر قلم کا ر مخمل بچھا ہوا تھا۔ اس پر ایک حور بیٹھی تھی۔ اس کی زردقبا کے نچلے حصے کا وسیع گھیر زمین پر لوٹ رہا تھا۔ کمر پر سونے کے تاروں کی بٹی ہوئی ڈوری کسی ہوئی تھی جس کے دونوں سرے نیچے لٹک رہے تھے۔ اس ڈوری بالائی جسم کے تمام پیچ و خم ابھار دیئے تھے۔ آسمانی ریشم کی ایک پٹی اس کے چہرے کو اپنے حلقے میں لئے سوئے تھی اس پر نوک دار تاج ٹوپی تھی جس کے دو نکیلے حصے دونوں کانوں کے نیچے شاخوں تک پڑے تھے جن میں موتیوں کے گچھے چمک رہے تھے ۔ مصور کے نقش کے مانند کھنچے ابروؤں کے نیچے بڑی بڑی نیلی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔
اس نے آنکھیں جھکالیں ۔ پھر اس نے فرانسیسی لہجے میں اجنبی مگر میٹھی آواز سنی ۔

تمہارا نام ؟
جون۔ اس نے بغیر نگاہ اٹھائے جواب دیا۔
وطن؟

میرے دادا پہلی صلیبی لڑائی میں برگنڈی سے آئے تھے۔ یروشلم کی فتح کے بعد انہوں نے ایک شامی امیر کی بیٹی سے شادی کر لی اور دمشق میں سکونت اختیار کر لی۔ میرے باپ نے بھی دمشق کو اپنا وطن بنائے رکھا۔
*ویمسک ۔ ویمسک۔*

اس نے اپنے اردگرد کھڑی ہوئی عورتوں کو مسرت سے دیکھا اور مسرور آواز کی کھنک نے اس کے دل میں چٹکی لی۔ ڈوبتے سورج کی الوداعی کرنوں نے اس حسین چہرے کے حسن و جمال کو اور روشن کر دیا تھا۔

کیا کرتے ہو؟

میں نے خدا کے اکلوتے بیٹے مسیح کے سچے دین کی خدمت کیلئے حلف اٹھایاہے۔ اسلامیوں کے گڑھ میں رہنے کی مصیبت اسی دن کیلئے قبول کی تھی کہ جب آپ کے مظفر و منصور لشکر اس کے دروازے پر آئیں گے تو میں آپ کو خفیہ اطلاعات بہم پہنچاؤں گا۔ آج مسیح نے میری آرزو پوری کر دی۔
اس نے مسکرا کر دیکھا اور پہلو میں رکھا ہوا سونے کا چھوٹا سا *عصا* اٹھالیا اور کھڑی ہو گئی۔ قحطان آنکھیں پھاڑے کھڑا تھا۔ پھر وہ دونوں ایک قسم کی بے نام حراست میں لے لئے گئے اور مسلح عورتوں کے گھیرے میں اس آراستہ گھوڑے کے پیچھے چلنے لگے جس پر عورت کے بھیس میں ایک فرشتہ بیٹھا ہوا تھا۔ (جاری ہے 



No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages